
افغانستان کے نوجوان قاری اپنی فیملی کے ساتھ سعودی میں رہتا ہے جہاں جدہ میں اعلی اسلامی تعلیمات کے حصول میں مصروف ہے۔
ادریس کے والدی «سید امین هاشمى» افغانستان کے صوبہ تخار کے علاقے «چال» کے رہنے والے تھے جنہوں نے ٢۵ سال قبل جدہ کا رخ کیا اور یہاں پر رہایش پذیر ہے۔
ادریس، بچپن سے تلاوت کے شوقین تھے اور اس وقت کل قرآن مجید کے حافظ ہے۔
ادریس هاشمی اس کلپ میں سورت فصلت کی آیات ۳۰ تا ۳۶ کی تلاوت کررہے ہیں۔
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ ﴿۳۰﴾
جنہوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اس پر قایم رہے فرشتے ان پر اترتے ہیں [اور کہتے ہیں] ڈرو مت اور غمگين مت ہوجاو اور وعدہ شدہ جنت پر خوش ہوجاو (۳۰)
نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ ﴿۳۱﴾
دنیا و آخرت کی زندگی میں ہم تمھارے دوست ہیں اور جو تمھارے دل میں ہے اور یہاں[جنت] میں سب تمھآرے ہیں اور جو چاہتے ہو یہاں پر موجود ہیں (۳۱)
نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ ﴿۳۲﴾
آمادہ رزق خدا کی طرف سے ہے (۳۲)
وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿۳۳﴾
اور کون اس سے زیادہ خوش گفتارہے جو خدا کی طرف دعوت دیتے ہیں اور نیکی کرتے ہیں اور کہتے ہیں[ میں خدا کے برابر] تسلیم شدہ ہوں (۳۳)
وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ﴿۳۴﴾
اور نیکی و بدی برابر نہیں[بدی کو] جو بہتر ہے اس سے دور کرو، جو دشمنی تمھارے اور انکے درمیان ہے دوستی میں بدل دیں گے (۳۴)
وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ ﴿۳۵﴾
اور یہ [ خصلت] صرف صابروں کو ملتا ہے اور صاحب جزا کے علاوہ کوئی دریافت نہیں کرتا (۳۵)
وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴿۳۶﴾
اور اگر شیطان کا وسوسہ تمھیں کہیں سے نکل دے تو خدا کی پناہ لو اور وہ بڑا سننے والا ہے (۳۶)